قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کی کارکردگی
21/01/2017 - حکیم محمد عثمان

قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کی کارکردگی

پاکستان میں صنعت و پیداوار کی ترقی ایک چیلنج بن چکی ہے۔ دہشت گردی کی جنگ بدعنوانی اور جرائم کی وجہ سے ہمارے ملک میں تاجر وں، صنعت کاروں اور سرمایہ داروں میں بہت زیادہ تحفظات پائے جاتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ ملک میں توانائی کے بحران اور ٹیکس نظام کی ظالمانہ پالیسیوں کی وجہ سے صنعتی شعبہ کا مورال کبھی ڈاؤن ہو جاتا ہے اور کبھی بالکل ناامیدی پھیل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بہت سے صنعتی یونٹ بند ہو چکے ہیں۔ لوگوں نے ملک سے باہر صنعتیں لگانے کا رجحان پکڑ لیا ہے۔ ان حالات میں ملک کی ترقی و خوشحالی ایک خواب بن کر رہ گئی ہے۔ اس سنگین اور تلخ ماحول کے باوجود حکومت صنعت کاروں کوپنجاب انڈسٹریل اسٹیٹ کے پلیٹ فارم پر اکٹھا کررہی ہے۔اس سے مختلف شہروں کے صنعتی علاقوں کو خودکفالت اور خودانحصاری کے جذبہ سے سرشار کیا جائے گا۔ اس ادارے کی وجہ سے اس وقت پنجاب میں کئی صنعتی علاقوں میں مینجمنٹ بورڈز بن چکے ہیں۔ ان میں لاہور میں کوٹ لکھپت کا انڈسٹریل ایریا، اب قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ بن چکا ہے جبکہ لاہور کے مضافات میں سندر انڈسٹریل اسٹیٹ، ترقی کی منازل طے کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ بھلوال انڈسٹریل اسٹیٹ، رحیم یار خان انڈسٹریل اسٹیٹ، ملتان انڈسٹریل اسٹیٹ اور وہاڑی انڈسٹریل اسٹیٹ اپنے علاقوں میں صنعتی پیداوار میں ترقی کیلئے اقدامات اٹھانے کیلئے اپنے مینجمنٹ بورڈ کے تحت امور انجام دے رہے ہیں۔
پنجاب میں قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کارکردگی کے اعتبار سے سرفہرست ہے۔ اس کا سہرا قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کے مینجمنٹ بورڈ کے سر ہے جو محنت اور خصوصی اقدامات کیلئے فوری انتظامات کرتا ہے۔ مینجمنٹ بورڈ صنعتی علاقے کی ترقی کیلئے بہترانفراسٹرکچر پر زور دیتا ہے۔ ان کوششوں کے نتیجہ میں سڑکوں کی تعمیر اور سیوریج کا بہتر انتظام کیا گیا ہے۔ موجودہ بورڈ آف مینجمنٹ نے انفراسٹرکچر کو مزید بہتر بنانے کیلئے سخت اقدامات کئے ہیں۔ خاص طور پر بورڈ کے صدر خواجہ عارف قاسم،سینئر وائس پریذیڈنٹ میجر (ر) جاوید اقبال کا جذبہ قابل قدر ہے جنہوں نے تندہی سے دیگر رفقا کے ساتھ مل کر سیکورٹی کے نظام کو جدید انداز میں استوار کیاہے ،ہر چوک میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جاچکے ہیں اور انکی جدید نظام سے مانیٹرنگ ہوتی رہتی ہے۔اس حوالے سے بورڈ اپنے تمام ممبران کو اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ وہ سکیورٹی کی مانیٹرنگ کے لئے مزید بہتری کے لئے تجاویز دیا کریں ۔الحمدللہ سکیورٹی نظام بہتر بنانے سے امن و تحفظ بہترین مثال بن گیا ہے۔
قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ ایک بڑا صنعتی مرکز ہے۔ یہاں 450 یونٹس ہیں، لہٰذا یہاں جب مختلف نوعیت کے مسائل پیدا ہوتے تھے تو حکومتی ادارے تساہل سے کام لیتے اور ان کے عدم تعاون کی وجہ سے صنعتی ترقی میں رکاوٹ پیدا ہوتی تھی مگر اب بورڈ آف مینجمنٹ کی وجہ سے بالخصوص ان کے نقشہ جات اور پلاٹوں کی تقسیم جیسے ناگزیر مسائل جلد حل ہو جاتے ہیں۔کسی سانحہ کی صورت میں ڈیزاسٹر مینجمنٹ کا شعبہ بھی قائم ہوچکا ہے جو بروقت مدد کی فراہمی کو یقینی بناتا ہے ۔اس معاملے میں بورڈ مینجمنٹ کے اراکین اور عہدے داروں کا یہ جذبہ قابل تحسین ہے ،وہ خود بھی کسی ناگہانی واقعہ کی صورت میں وہاں پہنچ جاتے ہیں۔ایسا اتحاد واتفاق ملک گیر ہونا چاہئے جس سے صنعتی کمیونٹی کا سپرٹ تیز ہوگا۔ بورڈ آف مینجمنٹ اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ صنعت کاروں کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کر کے ملکی ترقی اور خوشحالی کے خواب کو شرمندہ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ آلودگی کے خاتمہ کے لئے رواں سال انڈسٹریل ایریا میں دس ہزار پودے لگائے گئے ہیں جس سے صنعتی آلودگی پیدا ہونے کے خطرات کم ہوچکے ہیں۔آنے والے سالوں میں یہ علاقہ سرسبز ہوجائے گا ۔سیوریج کا نظام بھی مثالی درجہ رکھتا ہے ۔اعلی انتظامی معاملات کے باعث قائد اعظم انڈسٹری اسٹیٹ کو دیگر مینجمنٹ بورڈز پر کارکردگی کی بنا پر فوقیت حاصل ہے۔
توانائی کا بحران بہت بڑا مسئلہ ہے۔ بورڈ آف مینجمنٹ کی کوشش ہے کہ حکومت قائداعظم انڈسٹریل اسٹیٹ کیلئے ایک پاور اسٹیشن کا انتظام کیا جائے۔ اس وقت زیادہ فیکٹریوں میں بجلی و گیس کے تعطیل کی وجہ سے جنٹریٹرز کی مدد سے پیداوار کی جا رہی ہے جس سے لامحالہ اخراجات بڑھتے ہیں۔ ہم نے دوسرے ملکوں میں جا کر دیکھا ہے اور غیر ملکی سرمایہ کار بھی ہمارے اداروں کا دورہ کرتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ان ملکوں میں حکومتیں صنعت کاروں اور سرمایہ کاروں کو کتنی مراعات دیتی ہیں۔ جن ملکوں میں بجلی سستی اور رواں ہے انہوں نے صنعتی ترقی کی منازل طے کرلی ہیں۔حکومت کو چاہئے کہ اگر وہ حقیقت میں ملک میں صنعتی پیداوار بڑھانا چاہتی ہے تو صنعتی میدان میں انقلابی تبدیلیاں لائے اور توانائی سمیت دیگر سہولیات سستی اور عام فراہم کرے۔ اس حوالے سے یہ بھی بتا دوں کہ پاکستان کے صنعت کاروں کو بیرونی دوروں کے لئے ویزوں کا پرابلم بھی ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے ایسا نہیں تھا مگر اب چھوٹے چھوٹے ممالک بھی صنعت کاروں کو ویزہ دینے میں دیر کرتے ہیں۔ حکومت کو فوری اقدامات کر کے اس معاملہ کو حل کرنا چاہئے۔ کیونکہ اس تاخیر کی وجہ سے صنعت کار بیرون ممالک نمائشوں اور مارکیٹنگ کیلئے بروقت نہیں جا سکتے جس سے ملک کا زرمبادلہ متاثر ہو گا۔

متعلقہ تبصرے

  • اس پوسٹ پر کوئی تبصرہ نہیں ہے.

اپنی رائے لکھیں

  • پورا نام
  • آپکا ای میل ایڈریس
  • تبصرہ
  •